مجموعہ راجندر سنگھ بیدی ePUB ↠

مجموعہ راجندر سنگھ بیدی [KINDLE] ✽ مجموعہ راجندر سنگھ بیدی Author Rajinder Singh Bedi – Thomashillier.co.uk Rājindar Siṅgh Bedī BnF Autres formes du nom راجندر سنگه بيدى ourdou Rājindar Siṅgh Bedī ourdou راجندر سنگھ بيدى ourdou Rājindar Siṅgh Bedī ourdou راجندر Rājindar Siṅgh Bedī BnF Autres formes du nom راجندر سنگه بيدى ourdou Rājindar Siṅgh Bedī ourdou راجندر سنگھ بيدى ourdou Rājindar Siṅgh Bedī ourdou راجندر سنگھ بيدى ourdou Rājendra Siṃha Bedī hindi राजेन्द्र सिंह बेदी hindi ہاتھ ہمارے قلم ہوئے راجندر سنگھ بیدی افسانوں کا مجموعہ An effort to build positive thinking and society A Social Cultural and Literary Portal from Hyderabad India راجندر سنگھ بیدیایک بے مثال افسانہ نگار | اردو کلاسک اُردو کے بڑے افسانہ نگاروں میں ویسے تو کئی نام لیے جا سکتے ہیں مجموعہ راجندر eBook ☆ لیکن سعادت حسن منٹو‘ کرشن چند اور راجندر سنگھ بیدی کا ذکر کیے بغیر بات مکمل نہ ہو گی۔ آج ہم راجندر سنگھ بیدی کے فن افسانہ نگاری کے بارے میں اپنے قارئین کو ایک چادر میلی سی ناول از راجندر سنگھ بیدی pdf download ایک چادر میلی سی راجندر سنگھ بیدی کا اول اور آخر ناول ہے۔یہ ناول پنجاب کے دیہات کے پس ماندہ معاشرے اور سنگھ گھرانے کے معاشی حالات کی نشاندہی کرتا ہے۔پورا ناول پنجاب کے کوٹلہ گاؤں کے تانگے والے کی بیوی رانو پر محیط ہے۔ � راجندر سنگھ بیدی — زندگی اور شخصیت | قومی کونسل برائے فروغ راجندر سنگھ بیدی، جیسا کہ انھوں نے خود اپنی پیدائش کے متعلق کہا ہے، یکم ستمبر کی سویر کو لاہور میں بج کر منٹ پر پیدا ہوئے۔بیدی کی ماں سیوا دیوی ہندو برہمن خاندان سے تھیں، اور باپ بابا ہیرا سنگھ کھتری سِکھ تھے۔ وہ بڈھا راجندر سنگھ بیدی کا شاہکار افسانہ Page of وہ بڈھا – راجندر سنگھ بیدی کا شاہکار افسانہ راجندر سنگھ بیدی nb Views اردو کے شاہکار افسانے ; اس کے ساتھ اس کی ماں بھی آئی تھی۔ وہ بچھی جا رہی تھی، جیسے بیٹوں کی شادی سے پہلے مائیں بچھتی ہیں۔ مجھے تو یوں لگا جیسے رام دھاری سنگھ دِنکر وکیپیڈیا رامدھاری سنگھ دنکر فائلRamdhari Singh 'Dinkar'JPG قومی شاعر رامدھاری سنگھ دنکر جم ستمبر سماریا، بیگوسرائے، بہار موت اپریل تنجور پنڈ، تنجور ضلع، تملناڈو کممیدان شاعر، آزادی سنگرامی، پارلیمنٹ میمبر، مضمون نگار، ساہت عطاؔ کا پشتو شعری مجموعہ | لفظونہ حال ہی میں اُن کا دوسرا شعری مجموعہ ’’دَ احساس للمے مے رنگونہ سپڑی‘‘ چھپ کر مجلد شکل میں منظر عام پہ آچکا ہے۔ جس میں غزلیں بھی ہیں اور نظمیں بھی۔ اباسین یوسف زئی جیسے استاد نے اس پہ دیباچہ لکھا ہے۔ عطاء الرحمان عطا کا ک� مجموعہ محفوظات DaleelPk مجموعہ محفوظات DaleelPk جولائی ہمارے بارے میں ; اغراض و مقاصد; ہماری پالیسی; ہدایات برائے تحریر; تحریر بھیجیں; ادارتی ٹیم سے رابطہ; دلیل مصنفین; Facebook; Twitter; سرورق; ہیڈ لائنز ملک دشمن عناصر کی سہ جہتی حکمت عملی قادر خان ترقی پسند افسانہ آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا راجندر سنگھ انگارے افسانوں کا ایک مجموعہ ہے، جس میں احمد علی کے علاوہ سجاد ظہیر اور ڈاکٹر رشید جہاں کے افسانے بھی شامل تھے۔ بقول ڈاکٹر انور سدید انگارے کی آگ سرد نہیں ہوئی تھی کہ انہوں نے افسانوں کا ایک نیا مجموعہ ”شع�.


2 thoughts on “مجموعہ راجندر سنگھ بیدی

  1. Ahmad Cheema Ahmad Cheema says:

    فن کسی شخص میں سوتے کی طرح سے نہیں پھوٹ نکلتا۔ ایسا نہیں کہ آج رات آپ سوئیں گے اور صبح فن کار ہوکر جاگیں گے۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ فلاں آدمی پیدائشی طور پر فن کار ہے، لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے، البتہ، کہ اس میں صلاحیتیں ہیں، جن کا ہونا بہت ضروری ہے۔ چاہے وہ اسے جبلت میں ملیں اور یا وہ ریاضت سے ان کا اکتساب کرے۔ پہلی تو یہ کہ وہ ہر بات کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ محسوس کرتا ہو، جس کے لیے ایک طرف تو وہ دادِ تحسین پائے اور دوسری طرف ایسے دُکھ اٹھائے جیسے کہ اس کے بدن سے کھال کھینچ لی گئی ہو اور اسے نمک کی کان سے گزرنا پڑرہا ہو۔ دوسری صلاحیت یہ کہ اس کے کام و دہن اُس چرند کی طرح ہوں جو منہ چلانے میں خوراک کو ریت اور مٹی سے الگ کرسکے۔ پھر یہ خیال اس کے دل میں کبھی نہ آئے کہ بجلی کا خرچ زیادہ ہوگیا ہے یا کاغذ کے ریم کے ریم ضائع ہوگئے ہیں۔ وہ جانتا ہو کہ قدرت کے کسی بنیادی قانون کے تحت کوئی چیز ضائع نہیں ہوتی۔ پھر وہ ڈھیٹ ایسا ہو کہ نقشِ ثانی کو ہمیشہ نقشِ اوّل پر فوقیت دے سکے۔ پھر اپنے فن سے پرے کی باتوں پہ کان دھرے۔ مثلاً موسیقی، اور جان پائے کہ استاد کیوں سُر کی تلاش میں بہت دور نکل گیا ہے۔ مصوری کے لیے نگاہ رکھے اور سمجھے کہ وشی واشی میں خطوط کیسی عنایت اور توانائی سے ابھرے ہیں۔ اگر یہ ساری صلاحیتیں اس میں ہوں تو آخر میں ایک معمولی سی بات رہ جاتی ہے اور وہ یہ کہ جس ایڈیٹر نے اس کا افسانہ لوٹا دیا ہے، وہ گدھا ہے راجندر سنگھ بیدیفسانہ لکھنے کے فن میں بھولنا اور یاد رکھنا، دونوں عمل ایک ساتھ چلتے ہیں۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ بڑی بڑی ڈگریوں والے پی ایچ ڈی اور ڈی لٹ اچھا افسانہ نہیں لکھ سکتے۔ کیونکہ انہیں بھول نہ سکنے کی بیماری ہے۔ میں ایک دماغی تساہل کی طرف اشارہ کرتا ہوں جسے منٹو نے میرے نام ایک خط میں لکھا۔ “بیدی، تمہاری مصیبت یہ ہے کہ تم سوچتے بہت زیادہ ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ لکھنے سے پہلے سوچتے ہو، لکھتے ہوئے سوچتے ہو اور لکھنے کے بعد سوچتے ہو۔” میں سمجھ گیا کہ منٹو کا کیا مطلب ہے ۔۔۔ میری کہانیوں میں کہانی کم اور مزدوری زیادہ ہے۔ مگر میں کیا کرتا ؟ ایک طرف مجھے فن اور دوسری طرف زبان سے لوہا لینا تھا۔ اہلِ زبان اس قدر بے مروت نکلے کہ اقبال تک کا لحاظ نہ کیا۔ کسی سے پوچھا آپ اقبال سے ملے تو کیا بات ہوئی۔ بولے کہ کچھ نہیں، میں جی ہاں، جی ہاں کہتا رہا اور وہ ہاں جی، ہاں جی کہتے رہے۔ اب حالات میں نسبتاً آسانی ہے کیونکہ سند کے لیے ہمیں کہیں دور نہیں جانا۔ پرسوں ہی ڈاکٹر نارنگ مجھ سے کہہ رہے تھے کہ پاکستان میں ایک تحریک چلی ہے جو شوکت صدیقی اور قراتہ العین حیدر کی پُورب سے آئی ہوئی زبان کو ٹکسالی نہیں مانتی۔ بہرحال میں نے منٹو کی تنقید سے فائدہ اٹھایا مگر وہ بے ادائی کی ادا جس کی طرف منٹو نے اشارہ کیا، میر کے الفاظ میں خاک ہی میں مل کر میسر آتی ہے۔ لیکن یہی بے ادائی اور قلم برداشتگی جہاں منٹو میں مزا پیدا کرتی تھی، وہیں بدمزگی بھی۔ جب میں نے منٹو کے کچھ افسانوں میں لاابالی پن دیکھا تو اسے لکھا ۔۔۔ منٹو، تم میں ایک ایک بڑی بری بات ہے اور وہ یہ کہ تم لکھنے سے پہلے سوچتے ہو، نہ لکھتے ہوئے سوچتے ہو اور نہ لکھنے کے بعد سوچتے ہو۔اس کے بعد منٹو اور مجھ میں خط و کتابت بند ہوگئی۔


  2. Afshan Ejaz Afshan Ejaz says:

    I WANT TO OWN THIS BOOK


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *